مرض استسقاء

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - وہ بیماری جس میں مریض کو پیاس بہت لگتی ہے، جلندھر کا روگ۔ "میر عنایت بیگ نے. ٢٥محرم ١٢١ھ کو مرض استسقاء میں انتقال کیا۔"      ( ١٩٨٨ء، لکھنؤیات ادیب، ٥٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'مرض' کے آخر پر کسرہ اضافت لگا کر عربی زبان سے اسم 'استقاء' لگانے سے مرکب اضافی 'مرض استقاء' بنا۔ اردو میں بطور 'اسم' مستعمل ہے۔ ١٩٨٨ء کو "لکھنؤیات ادیب" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ بیماری جس میں مریض کو پیاس بہت لگتی ہے، جلندھر کا روگ۔ "میر عنایت بیگ نے. ٢٥محرم ١٢١ھ کو مرض استسقاء میں انتقال کیا۔"      ( ١٩٨٨ء، لکھنؤیات ادیب، ٥٢ )

جنس: مذکر